FANDOM


کشف الاسرار

حضرت علی ہجویری رحمة اللہ علیہ)

بسم اللہ الرحٰمن الرحیم

تعریف اس بےنیاز کو سزاوار ہے جس نے ہمارے وجود کو اربعہ عناصر سے شہود کے میدان میں ظاہر کیا اور نعمت پیغمبر خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جن کے امتی ہونے کے ہم داعی ہیں۔

امابعد، صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب میں نے ارادتاً مختصر تحریر کی ہے کیونکہ بالعموم ضخیم کتاب سے پڑھنے واﻻ اکتا جاتا ہے۔ کتاب ہذٰا پڑھنے والوں کی خدمت میں التجا ہے کہ اگر کوئی نامناسب کلمہ تحریر ہو گیا تو اس کی اصلاح کر دیں وگرنہ ازراہ لطف و کرم پردہ پوشی اور درگزر فرمائیں۔

میرے پاس طالبوں کے لئے بہت سی ایسی مفید باتیں ہیں کہ اگر وہ انہیں اپنے علم میں ﻻئیں تو مشائخ کے سردار ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب کشف المحجوب کو نہایت دلی محبت سے ایک قلیل مدت میں تکمیل تک پہنچا دیا تھا۔ اب میں بعض قابل تحریر اور ضروری باتیں کشف اﻻسرار کے نام سے لکھتا ہوں۔ میری نگاہ میں یہ کتاب دوسرے اذکار سے بہتر ہے۔ سبحان اللہ عما تصفون و اللہ ولی توفیق ( اللہ تعالٰی کی جو تم تعریف کرتے ہو وہ اس سے پاک ہے اور وہ صاحب توفیق ہے)۔

اوﻻً فقراء کا ذکر کرتا ہوں، فقیر کے لئے ﻻزم ہے کہ بادشاہوں یا حاکموں کی جان پہچان اور ان کے میل مﻻپ کو اژدھا اور سانپ کی ہم نشینی و دوستی خیال کرے۔ کیونکہ فقیر کو جب بادشاہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے تو اس کا سامان سفر اور توشہ برباد ہو جاتا ہے۔

لباس کے متعلق کثیر روایات و حکایات ہیں۔ چنانچہ میں نے کشف المحجوب میں مفصل تحریر کر دیا ہے۔ اب صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ترکی کﻻہ زیب سر کر لینے سے فقیری حاصل نہیں ہوتی لیکن خواہ تم کافرانہ کﻻہ سر پر رکھ لو اس شرط کے ساتھ کہ فقیر بنے رہو اور اللہ تعالٰی کی رضامندی پر کاربند رہو تو یقیناً تم فقیر ہو لیکن اگر فقیر اس نیت سے فقیرانہ لباس پہنتا ہے کہ اسے اہل زر کی ہم نشینی حاصل ہو جائے تو یقین جانو کہ وہ فقیر نہیں بلکہ آتش پرست ہے جو غرور اور تکبر سے پر ہے۔

چونکہ فقیر کے لئے مرشد کی حضوری سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں پس مرشد کے کسی نشان کو تو ہمیشہ یاد رکھ۔ آدمی صحیح معنوں میں اسی وقت فقیر ہوتا ہے جب وہ مسافر، مفلس، قﻻش اور مصیبت ذدہ ہو۔ چنانچہ روایت ہے کہ ایک روز جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فقر کے بارے میں کچھ فرما رہے تھے کہ فقیر کو معرفت الٰہی کیسے حاصل ہوتی ہے۔ اس پر صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالٰی بہتر جانتے ہیں۔ اتنے میں جبرائیل علیہ السﻻم جناب الٰہی سے یہ حکم ﻻئے، سیروا فی اﻻرض فانظروا کیف کان عاقبة المکذبین (رٶے زمین پر سیر و سیاحت کر کے دیکھو کہ جھٹﻻنے والوں کا انجام کیا ہوا)۔

پس اے ہجویری، سیر و سیاحت اور سفر دولت ﻻانتہا ہے۔ اسے اختیار کر اور اسی وقت راہ لے۔ دلیلوں اور حجتوں کو چھوڑ۔ اگر تجھے سامان سفر کی قدرت ہے تو حج کا راستہ لے، محنت و مشقت برداشت کر تاکہ تو میدان حقیقت میں آ جائے۔ میں نے اسی دن سے روئے زمین کی سیر و سیاحت اختیار کی اور عجائبات خلق مشاہدہ کئے۔ مختصر یہ کہ ایک روز ماوراء النہر میں حوض کے کنارے بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ کوزہ میں نظر جو پڑی تو اپنے منظور نظر معشوق کو دیکھا۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ واقعی دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ پس پہلے معشوق اختیار کر پھر اس پر جان قربان کر دے۔ اور یہ وثوق سے کہہ اگر جان اس کی راہ میں قربان ہو جائے تو یہی بہتر ہے۔ پھر اللہ کی صفت کو دیکھ۔ تو اپنی شمع کا پروانہ بن جا اور اس پہلو پر نظر نہ کر کہ تیری جان کو غم لگ جائے گا۔ جو ہوتا ہے ہونے دے، اس کا ہونا ہی بہتر ہے۔

غرور کو اپنے جسم سے نکال باہر کر۔ میں جب ہندوستان میں آیا تو ﻻہور کے گردونواح کو بہشت نما پا کر وہیں رہائش کی ٹھانی۔ چنانچہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور وہیں بودوباش اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد مجھے یہ بخوبی معلوم ہو گیا کہ اس پیشہ سے میرے دماغ میں حکومت اور شاہی کی بو بس رہی ہے، تو میں نے اسے بالکل ترک کر دیا اور پھر اس کا نام تک نہ لیا۔


اے طالب، تو یا حبیب اور یا لطیف کا ورد اپنے رگ و ریشہ میں پیدا کر، راہ خدا کا مرد بن، رات کو اٹھ کر عبادت کر اپنے وجود کے مسام کشادہ کر، کثیر رو اور قلیل خوشی اختیار کر۔ کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے فلیضحکوا قلیﻻً و یبکوا کثیراً (پس چاہیئے کہ کم ہنسیں اور ذیادہ روئیں)۔ صبح کے وقت دریا پر جا اور حضرت خضر علیہ السﻻم سے محبت کر اور اسم مذکور کا ذکر کر تاکہ تو منزل کا جا لے۔ تجھے ﻻزم ہے کہ تو نفسانی خواہشات کی طرف مائل نہ ہو۔ دنیاوی میل جول ترک کر دے، گوشہ نشینی اختیار کر اور جو کچھ بطور تحفہ خلق کی طرف سے ملے فقراء میں تقسیم کر دے۔ اس میں سے اپنے پاس کچھ نہ رکھ۔ اللہ کے سوا کسی اور میں مشغول نہ ہو۔ اگر تیرا گزر کسی قبر یا مزار پر ہو تو فاتحہ پڑھ کر اسے بخش تاکہ اسے آرام نصیب ہو اور وہ تیرے حق میں دعا کرے۔ اور اگر کسی کی کھجور کی گٹھلی بھی تیرے پاس ہے تو اسے لوٹا دے اور اپنے پاس نہ رکھ۔ جب دوست کا کوئی بھید تجھے حاصل ہو تو اسے باہر نہ پھینک اور اس سے بیزاری اختیار نہ کر کیونکہ اس سے تیرا بھﻻ ہو گا۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ منصور حﻻج نے دوست کے بھید کا ایک ذرہ ظاہر کیا تھا جس کے بدلے اسے دار پر کھچنا پڑا اور اس کی معرفت خاک میں کل گئی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت خضر اولیاء اللہ کے دوست ہیں۔ نیز بقا اور مشاہدہ ربانی اولیاء اللہ کے وسیلے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن صلہ رحم کی دوستی تجھ پر فرض ہے اور ﻻزم ہے کہ تو اپنے والدین کو اپنا قبلہ سمجھے۔ تفاسیر میں بھی وضاحت سے لکھا ہوا ہے اور میں نے حسام الدین ﻻہوری سے بھی سنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے والدین کی قبر پر سجدہ کرے تو وہ کافر نہیں ہو جاتا۔ اور اگر کوئی مشکل میں پھنسا ہوا شخص اپنے والدین کی قبر پر جا کر دعا کرے تو البتہ اس کی مشکل حل ہو جائے۔نیز میں نے موصوف سے سنا ہے کہ نفس کافر ہے اور حسب ذیل باتوں کے سوا نہیں مرتا:

١ ۔ حق کی مدد ٢ـ خاموشی ٣ ـ بھوک ٤ ـ تنہائی ٥ ـ خلق کے میل جول کو ترک کرنا اور ٦ ـ ہر دم خلوت میں خدا کو یاد کرنا۔

جب شیخ حسام الدین ﻻہوری بستر مرگ ہوئے تو مجھ سے کہا کہ جان من دعا کرو کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب جانکنی کا وقت آیا تو میں نے موصوف کے منہ پر کان لگا کر سنا تو وہ کہہ رہے تھے اللھم ربی و انا عبدک (اے اللہ تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں)۔ وہ اسی سالہ نیک مرد تھے۔ مجھے یاد ہے کی میں نے جب ان سے آخری وقت کی وصیت چاہی تو انہوں نے کہا، اے ہجویری، ہر دم بنی آدم کی تسلی و تشفی کرتے رہنا، نیکی کرنا، ہمیشہ ایسی بات کرنا جس کے سبب ہر کوئی خوش ہو، کسی کا دل نہ دکھانا، ہمیشہ مروت سے پیش آنا۔ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو دوست نہ بنانا۔ نیز ارشاد کیا کہ اپنے علم کو ضائع نہ کرنا۔ مال اور اوﻻد کو فتنہ سمجھنا۔ اے ہجویری، دیکھ اب جبکہ مجھ پر جانکنی کا عالم ہے، میرے فرزند میرے کچھ کام نہیں آ رہے۔ جو کچھ میں نے کیا وہی میرے آگے آیا اور آئے گا۔ پس تجھے ﻻزم ہے کہ ماں باپ اور بنی نوع انسان کی دلجوئی کر اور ان سے ہمیشہ بھﻻئی کرتا رہ۔

میں نے تاج الدینؒ کو یہ کہتے سنا کہ ایک بھنورا لوگوں نے دیکھا کہ کہ جہاں چمبیلی اگی ہوئی تھی وہ وہاں اس مٹی میں لوٹ رہا ہے اور غمگین ہے، تو پوچھا کہ اے بھنورے وہ تمھاری چمبیلی کیا ہوئی۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ وہ جل چکی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اے بھنورے تیرا عشق خام ہے۔ اگر تو واقعی سچا عاشق ہوتا تو اس راہ میں پیچھے کیوں رہ جاتا اپنے محبوب کے ساتھ ہی کیوں نہ جل مرتا۔ اس نے کہا یارو میں پردیس میں تھا یہ سب کچھ بربادی میری عدم موجودگی میں ہوئی۔ اب تو میں اسے بھی بہت کچھ سمجھتا ہوں کہ مجھے اس کی جگہ ہی نظر پڑ جائے۔ افسوس وہ جگہ بھی تو دکھائی نہیں دیتی۔ کیونکہ جہاں وہ پیدا ہوا تھا، میں وہاں کی مٹی اپنے سر کا تاج جانتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسے سر پر ڈال رہا ہوں۔ اے دوست تجھے ﻻزم ہے کہ تو سچا عاشق بنے اور اپنے شیخ کے قدموں میں جان دیدے۔ تو ہمیشہ مرشد کے قریب رہے اور اس کے دیدار سے فیض یاب ہوتا رہے تاکہ تو حقیقت اور طریقت کے رازہائے سربستہ حاصل کرے۔

و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔



ایک کﻻم ختم ہوا اور اب دوسرا شروع ہوتا ہے۔

کان لگا کر سنو، یہ باتیں تمھارے کام آئیں گی۔ یہ خاطر جمع رکھو کہ تم اگر ہفت ہزاری بھی ہو جاٶ تو یہ تمھارے لئے منفعت نہیں۔ بالآخر تم مٹھی بھر گرد ہو اور تم اس کی طرف لوٹو گے۔ تمھاری حقیقت منی کا ایک قطرہ ہے پھر اس قدر غرور کیوں۔ آخرکار جو کچھ تمہیں دنیا سے نصیب ہے وہ یہی کہ چار گز کفن کا ٹکڑا اور وہ بھی خدا جانے نصیب ہو یا نہ ہو۔

اے طالبو، غور کرو اور سمجھو، غرور و تکبر کو ترک کر دو، راہ حق کے مرد بنو، بیگانے سے دوری حاصل کرو، دولت کو عذاب سمجھو اور اسے فاقہ کش لوگوں میں تقسیم کر دو اور بے بسوں پر قربان کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو یہی دولت تمہیں قبر میں کیڑوں کی شکل میں کھائے گی اور اگر بانٹ دو گے تو یہی دولت تمہاری دوست بن کر باعث راحت بن جائے گی۔ تمہارے ہاتھ پاٶں بھی تمہارے دشمن ہیں جب تم مر جاٶ گے تو تمھارے پاٶں کہیں گے کہ تم بری جگہ کیوں گئے تھے، ہاتھ کہیں گے کہ تم نے غیر کی چیز کو کیوں چھوا تھا۔ آنکھیں کہیں گی کہ تم نے بری نگاہ سے کیوں دیکھا۔ پس یہ چیزیں ملحوظ خاطر رکھو اور کسی چیز کی خواہش نہ کرو۔ اپنے گناہوں پر نظر کرو اور دن رات استغفار کرتے رہو۔ استاد کا حق بجا ﻻٶ۔ کمزور خلقت پر رحم کرو، حرام لقمہ نہ کھاٶ، اس جگہ قدم ہرگز نہ رکھو جہاں بےعزتی کا اندیشہ ہو۔ اسی کے پاس بیٹھو جو عزت کرے۔

ایک بزرگ کا قول ہے کہ دس چیزیں دس چیزوں کو کھا جاتی ہیں: ١۔ توبہ گناہ کو ٢۔ جھوٹ رزق کو ٣۔ چغلی عمل کو ٤۔غم عمر کو ٥۔ صدقہ بﻻ کو ٦۔ غصہ عقل کو ٧۔ پچھتانا سخاوت کو ٨۔ تکبر علم کو ٩۔ نیکی بدی کو ١٠۔ ظلم عدل کو۔

میں یہ باتیں ہر طالب حق کو بتاتا ہوں تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہو اور میرے حق میں دعائے خیر کرے۔ مجھے یاد رکھے اور خدا تعالٰی کو پہچانے اور غیر پر بالکل نگاہ نہ رکھے۔

طالب حق کو ﻻزم ہے کہ غرور و تکبر اور خودپسندی کو کلیتاً چھوڑ دے اور انہیں اپنے شہر تک سے نکال دے جن اسماء کو میں نے آگے چل کر لکھا ہے اور حقیقتاً ان کی صفت بیان کرنے کا میں پورا پورا حق ادا نہیں کر سکا۔ انہیں اپنا ورد بنائیے۔

حکیم لقمان فرماتے ہیں کہ میں نے چار سو پیغمبروں کی خدمت کی جن کی صحبت سے کل آٹھ ہزار کلمات حاصل کئے۔ اور ان میں سے بھی میں نے آٹھ چنے جن پر عمل پیرا ہونے سے خدا شناسی حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ کلمات یہ ہیں۔ اول، جب نماز ادا کرو تو اس دوران میں دل کو قابو رکھو۔ دوسرے، جماعت کے رفیق بنے رہو۔ تیسرے، جب کسی کے گھر جاٶ تو اپنی آنکھ کو محفوظ رکھو۔ چوتھے، جب خلقت کے پاس آٶ تو زبان کی نگہداشت کرو۔ پانچویں، اللہ تعالٰی کو کبھی فراموش نہ کرو۔ چھٹے، موت کو نہ بھولو۔ ساتویں کسی کے حق میں جو نیکی کرو، اسے بھول جاٶ اور آٹھویں جو تم سے بدی کرے اسے فراموش کر دو۔

اے عزیز، ان باتوں کو یاد رکھ۔ میں عمر بھر ان باتوں پر عمل کرتا رہا ہوں، جو میں نے اپنے والد بزرگوار قدس سرہ سے سنی تھیں۔ میری جائے پیدائش ہجویر ہے۔ اللہ تعالٰی اسے حادثوں اور مصیبتوں سے بچائے اور ظالم حاکموں سے محفوظ رکھے۔ میں نے ہجویر میں بہت سے عجائبات دیکھے ہیں اور اگر میں انہیں قلم بند کروں تو سیاہ آنسو رو رو کر عاجز آ جائے۔ وہاں شیخ بزرگ نامی ایک عمر رسیدہ آدمی تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا، اے علی، تو اس عمر میں ایک کتاب لکھ جو تیری یادگار رہے۔ میں نے عرض کیا، یا ایھا الشیخ ان ﻻ یعلم من علم (یا شیخ، بے شک وہ نہیں جانتا، جو جانتا ہے)۔ جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو میں نے اسی وقت جبکہ میری عمر بارہ سال تھی ایک کتاب تصنیف کر کے ان کے آگے پیش کی۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بزرگ ہو گے۔ میں نے کہا جناب کی عنایت چاہیئے۔ مجھے ان کی نصیحتیں یاد ہیں:

لوگوں کوچاہیئے کہ اپنے معشوق سے محبت کریں۔ معشوق کون ہے، خدا ہے جو اسے یاد کرتا ہے اللہ تعالٰی اس پر مہربانی کرتا ہے، تو معشوق مجازی اختیار کر کیوں کہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، المجاز قنطرة الحقیقة (مجاز حقیقت کا پل ہے)۔ فقیروں کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دے۔

میرے استاد شیخ ابوقاسم جن سے میں اکتساب علم کرتا ہوں، فرماتے ہیں کہ فقیر کے لئے تصور شیخ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں فقیر کو چاہیئے کہ اپنے مرشد کو حاضر و ناظر سمجھے۔ مرشد وہ ہے جو بذریعہ مراقبہ مرید کو دیکھتا رہے۔ فقیر کو چاہیئے کہ بیعت اس وقت کرے جب اپنے آپ میں اس کی اہلیت پائے اور اگر یہ نہیں ہے تو مرید اور مرشد دونوں ہی خراب ہوتے ہیں۔ فقیر کا مسلک بہت کٹھن ہے۔ میں اپنے دل میں ٹھان چکا ہوں سفر اختیار کروں تاکہ میرے دل پر زنگ نہ لگنے پائے۔ بلکہ صیقل ہوتا رہے کیوں کہ جب لوہے پر زنگ لگ جاتا ہے تو صیقل ہی سے دور ہوتا ہے۔

اے میرے معشوق، اللہ تعالٰی سے دعا کر۔ یا اللہ، میرے دل کو روشن چراغ بنا اور مجھے اپنی یاد کا شوق بخش اور میرے دل کو غیر سے خالی کر۔ میرے مرشد کو مجھ پر مہربان کر پہلے مجھے شکر بخش بعد ازاں دولت دے۔ پہلے مجھے کدورت سے پاک کر بعد ازاں اپنی طرف سے عنایت کر۔ پہلے مجھے صبر و صبوری سے نواز بعد ازاں بیماری دے۔ یاللہ، مجھے وہ چیز عنایت کر جو نیکی سے بھرپور اور عمدہ ہو اور مجھے اس بات کت کرنے کی توفیق دے جو تیرے یہاں پسندیدہ ہے۔

مبتدی کو سماع نہیں سننا چاہیئے بلکہ چاہیئے کہ اس کے پاس بھی نہ بھٹکے اس اسے الگ ہی رہے۔ یہ راستہ بہت مشکل و محال ہے۔ اس راہ میں زوال کا ذیادہ امکان ہے۔ تو گوشہ نشینی اختیار نہ کر۔ بلکہ خدا سے مرشد کامل کی صحبت کا طالب ہو۔ اس کی محبت میں دیوانہ ہو جا۔ بغیر ہم کﻻمئی معشوق کچھ اختیار کرنا سراسر جہالت ہے۔ اے سچے عاشق، سن، مجھے ایک دوست کا قول یاد آ گیا کہ وہ مجھ سے کہتا تھا کہ اے دوست، اگر تعالٰی تجھ پر مہربانی کرے تو میں جنگل جا کر اس کو یاد کروں اور اللہ کے سوا کسی دوسرے میں مشغول نہ ہوں۔ میں نے کہا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ وہ دوست پاس ہو۔ غیر کی باتوں اور مکروہ کاموں سے بچتا رہے، جہاں تک ہو سکے کسی مرد خدا کی صحبت میں رہے۔

اللہ جو حکیم ہے، علیم ہے، عزیز ہے، شفیق ہے، جس کا لطف عام ہے، کریم ہے، رحیم ہے، رحمان ہے، غفار ہے، جبار ہے، قہار ہے، وہاب ہے، سلطان ہے، حنان ہے اور گنہگاروں کا فریاد رس ہے۔ اسی سے یہ میری التجا ہے کہ اے اللہ، شہادت کے وقت بندش نہ لگانا، میرے محبوب کو میرے پہلو میں دینا، مجھے عذاب میں مبتﻻ نہ کرنا۔ میں بیمار اور روگی ہوں اور تو شافی و کافی ہے۔ میں یہی پسند کرتا ہوں کہ گوشہ نشینی اختیار کروں اور محبوب کی صورت کے سوا کسی کی صورت نہ دیکھوں۔ اے علی، خلقت تجھے گنج بخش کہتی ہے حاﻻنکہ تیرے پاس ایک دانہ تک نہیں۔ تو اس بات پر فخر نہ کر کیوں کہ یہ غرور ہے۔ گنج بخش اور رنج بخش صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے جو بے مثل ہے، جس کی مانند کوئی دوسرا نہیں۔ جو شبہ سے پاک ہے اور نمونے آزاد ہے۔ جب تک تو زندہ ہے شرک کے قریب نہ جا اور اللہ تعالٰی کو واحد ﻻ شریک خیال کر۔


میرے طالب، دنیا پانی پر کشتی کی مانند ہے اور ملک بے آب ہے تو غوطہ خور بن نہ کہ ڈوبنے واﻻ۔ کام ایسا کر کہ جس سے دوسرا فیض یاب ہو، کسی کا دل نہ دکھا، تجھے دین پناہ شاہ کی طرح ظلم و ستم کا قلع قمع کرنے واﻻ اور رعیت کے نفع نقصان جاننے واﻻ ہونا چاہیئے اور تجھے غافل نہیں رہنا چاہیئے۔ دنیا کو ذلیل اور گھٹیا سمجھ۔ عقبٰی کا بھی طالب نہ بن بلکہ عذاب ہی خیال کر۔ تو مولٰی کا طالب ہو جا تاکہ تو مرد اور نر ہو جائے طمع اور خواری کو اچھی طرح سمجھ لے۔ دنیاوی مکر و عقل کو اپنے سے دور رکھ۔ عقل ایمان کے لئے اللہ سے التجا کر۔ مرشد کو اپنا قبلہ جان اور نفس کو فربہ نہ بنا اور میری نصیحت پر عمل کر۔ اے علی، تو کیوں ایسی دل لگی اور ہنسی مذاق کرتا ہے تو تُو پرنور آدمی ہے اور طور کی طرح ظاہر ہے۔ شیطان سے دور رہ۔ اب تُو جہان میں نور ہے۔ اپنے آپ کو خاک کر لے تاکہ تُو نیک اوﻻد کہﻻنے کا مستحق ہو جائے۔ اے علی، تو نے اس قدر سفر بھی کئے لیکن تو ملعونوں کو دور نہ کر سکا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ تُو نے کچھ نہیں دیکھا۔ تُو اپنے آپ کو خاک میں مﻻ دے تاکہ باطن دکھائی دینے لگے۔

اے علی، تُو تو عجب دلربا ہے۔ گویا یوسف کنعانی ہے۔ تُو تو جان جہان ہے اور ظاہر و باطن کا جاننے واﻻ ہے۔ آخر تُو نے ایسی کیا چیز پڑھی جو اس قدر گھبرایا ہوا ہے۔ تُو نے اپنے دشمنوں کو دور کیوں نہ کیا۔ تُو نے خود اپنے اوپر گناہوں کی گرد بٹھائی۔ تو اپنے جوہر کیوں نہیں دکھاتا۔ اے علی، تو اپنے دل میں عمارت بنا۔ کیا تُو نے نہیں سنا کہ عمارت تجارت ہے۔ پس ذکر الٰہی کی کچی پکی اینٹوں سے ایک دلکش عمارت تعمیر کر۔ اے علی، تو عقل مند، بالغ، ولی اللہ، صاحب تاج و تخت، فقر فقیری کے تخت پر سونے واﻻ ہے۔ تو نیک درخت کی آبیاری کرتا ہے کہ پھل حاصل کرے۔ تو شیخ دل پذیر اور بادشاہ کا وزیر بنا ہوا ہے۔ اپنی وزارت کو دلگیری میں خاک کر دے۔ اے علی، تو بادشاہ ہے۔ چاند کی طرح سورج کا سہارا نہ لے۔ جب تک تو مرد راہ حق اور فخر کنندہ شیر ہے تب تک تُو بمنزلہ ایک تنکا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھے انجام کار روسیاہی نصیب ہو۔ اپنے آپ کو خاک میں مﻻ تاکہ مرد خدا بن جائے۔

اے علی، تو بلند مرد سورج ہے اور اونچا آسمان ہے بلکہ سورج کا رکھواﻻ ہے، خوش ہو، اپنے آپ کو خاک کر تاکہ مرد حور چہرہ بن جائے۔ اے علی، تیرے پاس روشن چمکیلے اور آبدار موتی ہیں۔ تیرے پاس آقا کی طرح باربرداری ہے۔ تو اپنے شہر مصر میں رہ کر بے عزتی کا سامنا نہ کر اور عمر رسیدہ عورت کی طرح حرص و ہوا کو نہ چاہ۔ اللہ تعالٰی سے موافقت کئے رہ۔ شریک سے مل بیٹھ۔ محبوب کی یاد میں خوشبو سے کھیل۔ صبر اختیار کر، اللہ تعالٰی کے فضل و کرم پر نازاں نہ ہو، بھید ظاہر نہ کر، نماز قضا نہ کر کیونکہ تو کامل، عامل اور بوجھ اٹھانے واﻻ ہے۔ آخر میں تو نیک بخت ہے اور اپنی جزا میں سختی کے حصول کو جائز نہیں سمجھتا۔

اے میرے طالب، تم میرے لخت جگر ہو۔ ان باتوں پر عمل کرنا۔ اے علی، کیوں باتیں بناتا ہے۔ تو اپنا کام کر۔ کیا تو نے تجربہ کاروں کا یہ قول نہیں سنا کہ تعلقات قطع کرو۔ حق کے واصل بنو اور اللہ کے سوا کسی کو تﻻش نہ کرو۔ میرے پاس نہایت پردرد اور عجیب و غریب باتیں ہیں۔ میں ہر دم سوائے اپنے محبوب کے اور کسی سے پیار نہیں کرتا۔ اس کے سوا میرا اور کوئی شیوہ نہیں۔ اس کے نام کے سوا میرا کوئی ورد نہیں۔ کبھی میں اس کے چاند کو فریفتہ کرنے والے چہرے کو دیکھتا ہوں۔ اور کبھی اس کے دونوں رخساروں کو دیکھتا ہوں۔ کبھی میں حقیقت میں اس کی خاک کو اپنی آنکھ کا سرمہ بناتا ہوں اور کبھی اس کے نقش قدم کو چودھویں رات کا چان خیال کرتا ہوں۔ کبھی اس کے دانتوں کی لڑی پر دُر قربان کرتا ہوں اور کبھی اس کے سر و رفتار پر اپنی رائے کی فکر کو روشن کرتا ہوں۔ رات بھر غم عشق کی خواری میں رہتا ہوں اور دن بھر اس کی منت و زاری میں۔ دل کہ اس پر قربان کیا تو اس قدر ذلیل ہوا۔ میں نے کپڑے یہاں تک پھاڑ ڈالے کے سارا ننگا ہو گیا۔ میں خطاکار فقیر اور گنہگار حقیر ہوں۔ جس نے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں دل ہار دیا۔ وہ سوائے عشق کے کسی اور میں مشغول نہیں ہوا میں دنیا کو بیت الخﻻء جانتا ہوں اور کبھی اس سرائے کو آرام کی جگہ خیال نہیں کرتا۔ کبھی آسمان پر جا بیٹھتا ہوں تو کبھی زمین پر رہ جاتا ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو خاک میں مﻻ لیا ہے۔



اے میرے طالب، بد دل نہ ہو، یاد حق میں عمر بسر کر۔ اپنے آپ کو سختی میں ڈال اور محنت سے کام لے تاکہ تُو مرد خدا بن جائے۔ تنہا رہنا بے پناہ چیز اور بیش قیمت اسباب ہے۔ مرشد کی حضوری ہر وقت اور ہر لحظہ ہونی چاہیئے۔ مزاروں پر فاتحہ پڑھنا چاہیئے تاکہ تیرے لئے اہل مزار بھی دعا کریں۔ یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیئے کیونکہ یہ ایک بہترین فرض ہے۔ نماز باجماعت ادا کرنی چاہیئے، دل سے وضو کرنا چاہیئے۔ میں نے بہت سی ابیات و اشعار لکھے ہیں میرا ایک دیوان بھی ہے جو پسندیدہ خاص و عام ہے۔ حسب ذیل غزل اسی دیوان سے ہے:

شوق تو در روز و شب دارم دﻻ عشق تو دارم بہ پنہاں و مﻻ جان بخوا ہم داد من درکوئے گر مرا آزار آید یا بﻻ عشق تو دارم میان جان و دل میدہم از عشق تو ہر سو صﻻ یا خداوندا رقیباں رابکش یا مرا دریاد کن مست بﻻ جان من دارد شراب یار خورد مہربان کن برمن و ہم مبتﻻ اے چساکز تو اگر خواہم بقا گر تو آری و بکن ہرگز توﻻ اے علی، تو فرخی در شہر و کوئی دہ زعشق خویشتن ہر سو صﻻ


بعدہ تحریر کرتا ہوں کہ ہر دم اللہ تعالٰی کی صفت بیان کرنی چاہیئے کیونکہ اس کے سوا ہماری کوئی پشت و پناہ ہے اور نہ ہی کوئی فریاد رس۔ میرے طالب، ہم دونوں غریب ہیں دعا کر کہ اللہ تعالٰی ہم پر فضل کرے اور اپنی یاد کا ذوق عنایت کرے۔ میں ایک بےچارہ اور آوارہ آدمی ہوں۔ میرا ظاہر و باطن یکساں ہے۔ میں ہر دم اپنے معشوق کو یاد کرتا ہوں۔

میرے طالب میں نے دنیا کو خوب دیکھا ہے۔ اللہ تعالٰی سے نیک اوﻻد مانگو اور اگر تم میں سﻻمتی کے ساتھ اکیلے رہنے کی قوت ہے تو شادی نہ کرو کیونکہ یہ بہت بڑی مصیبت ہےاور دردناک عذاب ہے۔ ﻻہور میں، میں نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں کریم نامی ایک سوداگر تھا۔ اس کا گھر ماﻻمال تھا اور سونا اس کے لئے غلے کی مانند تھا۔ اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اس نے امام بخش رکھا۔ اسی روز چوروں نے راستے میں اس کا مال لوٹ لیا۔ جب اس نے یہ خبر سنی تو پروا نہ کی۔ دوسرے اس سے بُری خبر سنی۔ غرض کہ چند ہی سالوں میں اس کا مال و اسباب برباد ہو گیا وہ سوداگر گھر سے نکﻻ اور آوارہ گردی اختیار کی، دولت کے واسطے مارا مارا پھرتا رہا لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اس کے لڑکے کو جب معلم کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھایا تو اس نے استاد کی داڑھی پر ہاتھ مارا۔ معلم نے بددعا کی چنانچہ وہ خراب اور آوارہ ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس کی عورت کندھے پر چکی اٹھا کر بازار بیچنے گئی جس سے چار دینار ہاتھ آئے۔ وہ خاوند کی دشمن ہو گئی اور اس کا لڑکا لوطی ہو گیا۔ وہ سوداگر مفلسی اور قﻻشی کی حالت میں پردیس میں مر گیا۔ اس کا لڑکا اس حالت میں مرا اور اس کی عورت نے بھی اسی بے مروتی میں جان دی۔ غرضیکہ دنیا مقام راحت نہیں بلکہ سراسر دکھ ہے۔ اگر وہ شخص گوشہ نشینی اختیار کرتا تو البتہ اتنا خراب و خستہ نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے اس کی تقدیر میں یہی کچھ لکھا تھا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کے سامنے دم مارنے کی طاقت نہیں۔ وہ ہمارا آقا ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔ یااللہ، علی کی عاجزی پر رحم کر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں علی کو بخش دے اور اس کی حالت پر رحم کر، کیونکہ یہ عاجز ہے، بے کس ہے اور اس کا کوئی دوست نہیں اور یہ تیرے سوا کسی کو دوست نہیں چاہتا اور تیرے نام کے سوا اس کا کوئی ورد نہیں، غربت کے سوا اس کا کوئی نسب نہیں۔ یااللہ، میری بے کسی پر رحم کر یقیناً تو رحیم ہے، حلیم ہے اور شفیق ہے۔ جب کہ میں گناہوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہوں۔ تو مجھے بخش دے۔ یااللہ، مجھے بہشت عطا کر تاکہ میں خوشی حاصل کر سکوں اور اے خدایا، نہ میں تیرے سوا کسی کو چاہتا ہوں نہ تیرے سوا میرا کوئی ہے اور نہ تیرے سوا میری کسی سے بنتی ہے۔

اے طالب، حق کا طالب بن، تکلیف سے نہ گھبرا۔ فقیری کٹھن ہے۔ حصول علم کر اسے سیکھ اور اس پر عمل کر۔ والدین کو بﻻشک و شبہ قبلہ جان کیونکہ ایسا کرنے سے تُو منزل الٰہی تک پہنچ جائے گا، انشاء اللہ تو صاحب وﻻیت ہو جائے گا اور اللہ تعالٰی کا فضل و کرم تیرے شامل حال ہو جائے گا۔ یا الٰہی میرے عیب چھپا اور مجھے خواری نہ دے۔ اے طالب، میں ہر روز یار کے دیدار کو جاتا ہوں کبھی کبھی وہ ماہ خنداں نظر آتا ہے۔ میں نے اپنا دیوان بھی دیدار یار کی حالت میں کہا ہے۔ رُخ محبوب دیکھتے ہی غزل کی آمد ہوتی ہے اور میری جس قدر بھی غزلیں ہیں وہ تمام کی تمام بغیر زور طبیعت کے وارد ہوتی ہیں۔ میں عاجز اور پُر تقصیر ہوں۔

اے بصیر، مجھ پر رحم کر کیونکہ میں بے تقدیر ہوں اور تو قادر ہے۔ یاالٰہی، تُو بﻻ شرکت کارساز ہے۔ وحدہ وحدہ وحدہ ﻻ شریک لہُ ﻻ شریک لہُ ﻻ شریک لہُ۔

اے میرے طالب، جو کچھ اللہ تعالٰی عنایت کرے تُو اس پر راضی ہو۔ اگر وہ جنگل بخشے تو اس میں رہ، اگر آبادی بخشے تو اس میں گزار دے، اگر وہ تجھے وطن نصیب کرے تو وطن میں بسر کر۔ اگر پردیس دے تو پردیس ہی میں زندگی کاٹ۔ غرضیکہ جو کچھ اللہ تعالٰی بخشے اسی پر تکیہ کر۔ اگر وہ گدڑی دے تو پہن لے اگر قاقم دے تو اسے اوڑھ لے۔ اگر وہ تجھے گدھا دے تو اس پر سواری کر اور اگر گھوڑا دے تو اسے بھی نہ چھوڑ۔ وہ جو بھی کچھ دے، لے لے۔ اور جو کچھ نہ دے اس پر صبر کر تاکہ تو مرد راہ حق بن جائے، اور تو خدا رسیدہ ہو جائے۔ صبر بھی عجیب چیز ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے۔ الصبر مفتاح الفرح (صبر کلید راحت ہے) صبر اختیار کر اور مرد راہ بن۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے تجھ پر مہربانی کی ہے اور تجھے بخش دے گا۔

کتاب ہٰذا کے پڑھنے والو، اگر میری کتاب کو پڑھو تو میرے حق میں دُعائے خیر کرنا۔ اب میں تم سے رُخصت ہوتا ہوں اور الوداع کہتا ہوں اور تمھیں اللہ جل جﻻلُہ و عم نوالُہ و اعﻻ صفاتُہ کے سپرد کرتا ہوں تاکہ تم خوش رہو۔ میری بات پر خفا نہ ہونا اور غصہ نہ کرنا۔ میں نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے۔

بر رسوﻻں بﻻغ باشد و بس۔

قاصدوں کا کام صرف پیغام رسانی ہے۔ و ما علینا اﻻ البﻻغ۔ ہمارا کام صرف پہنچانا ہےتمھیں ﻻزم ہے کہ اس پر عمل کرو اور میرے حق میں دعا کرو۔ اے میرے خدائے برحق جل جﻻلُہ و عم نوالُہ، میری کتاب کو منور کر اور مجھ پر نوازش فرما۔ میرے گناہ بخش دے۔ یقیناً جو کچھ ہے تو ہی ہے۔

مکن اے علی بیش ازیں گفتگو کہ مرد خدائی و پاکیزہ خو ہر آنچہ تو داری ثواب و عذاب خداواندآں راھمہ بالصواب

Ad blocker interference detected!


Wikia is a free-to-use site that makes money from advertising. We have a modified experience for viewers using ad blockers

Wikia is not accessible if you’ve made further modifications. Remove the custom ad blocker rule(s) and the page will load as expected.

ברחבי אתר Wikia

ויקי אקראית